برادرم مزمل شیخ بسمل کی پوسٹ پر کمنٹ

ایک پر مغز لیکن جادہ اعتدال سے اپنی جڑوں میں کھسکتا ہوا مختصر انشائیہ…
اردو جیسا کہ ہم جانتے ہیں مختلف زبانوں کے اختلاط و ارتباط سے مرکب زبان ہے. اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ اردو کی خوبی ہے. کہا جاسکتا ہے کہ یہی اردو کی خوبی ہے. پس اس خوبی کو نظیر بناتے ہوئے دوسری زبانوں کی خامی کو اردوانے کیلئے راہیں نہ کھولی جائے تو بہتر رہے گا.
اردو اگر دوسری زبانوں کے لفظوں کو بہ سہولت اپنے دامن میں جگہ دیتی ہے تو اس کا مطلب حاشا وکلا یہ کبھی نہیں بنتا کہ یہ قواعد بھی درآمد کرنا شروع کردے. اردو صدیوں قبل اپنی ارتقاء کی وہ منزل طے کرچکی ہے کہ جہاں “الیوم اکملت لکم لغتکم” کا اعزاز اسے نصیب ہوچکا. اور یہ زبان اپنے قواعد و ضوابط میں ایک کامل اور خود کفیل زبان کا درجہ پاچکی ہے.
پس اردو میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نثر اور نظم میں (یا آپ کے الفاظ میں نثر اور شاعری میں)  مابہ الامتیاز امر وزن اور بحر ہے. یا یوں کہہ لیجئے کہ شاعری کیلئے باوزن ہونا ریڑھ کی ہڈی ہے. اگر انگریزی یا کسی اور یورپی زبان میں شاعری کیلئے وزن کے قاعدے کی پاسداری ضروری نہیں رکھی گئی تو خاطر جمع رکھئے وہاں دیگر بہت سارے ضروری انسانی ضابطوں کی بھی پاسداری کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی.
اس لئے میاں جی درخواست ہے کہ ایک “نثری نظم” جیسی متنازعہ صنف کو شاعرانے کیلئے مسلمات پر دست جسارت بڑھانا بذات خود ایک افراط و تفریط پر مشتمل عمل ہے.
نثری نظم کے بارے زمانے کے بدلتے رجحانات کے پس منظر میں یہی بات مناسب ہے کہ اس کو بقدر ضرورت، بوقت ضرورت کی حد تک تسلیم کرلیا جائے.
کوئی اچھوتا خیال اور چونکادینی والی بات جو مروجہ (اور مسلمہ بھی) نظم کے پیمانوں اور معاییر کے تنگ دائرے میں رہتے ہوئے نہیں کہی جاسکتی. تب نثریہ نظم کو جواز دے دینا چاہیے. اس سے زیادہ کی یہ سزاوار نہیں.
قاعدہ کوئی بھی کلیہ نہیں ہوتا. قانون کوئی بھی ہر جگہ لاگو نہیں. یہ بات بذات خود مسلم ہے کہ ہر کلیہ ٹوٹنے کیلئے بنتا ہے. اسی معنی میں نثری نظم کو برداشت کرنا چاہیے..

Advertisements

روشنی کی کرن

سنو…..!

تم نے کب جانا؟
جاننا تو آگہی کا پیش خیمہ ہے. اور آگہی شعور والوں پر اتارے گئے آفات میں سے سب سے بڑی آفت، سب سے بڑی بلا ہے..
اور آتش فشانی مرکزے میں بھڑکتی ، پھنکارتی، دہکتی آگ کے لپٹوں میں اپنا سیمابی وجود ان شعلوں میں جھونکنے جیسی سسکتی اذیتوں کی ہم مثل اذیت یہ ہے کہ شعور اپنی ذات کا ہو……

تو ایسا ہے کہ تم سن لو…..
لیکن میری دعا ہے اس خدا سے جو فراق جیسی ام المصائب تخلیق پر قادر ہے. میری یہ دعا ہے کہ تم سننے کے مرحلے پر توقف کرلو. تم جاننے کے مرحلے تک نہ پہنچو.
لیکن میری یہ التجا بھی ہے کہ تم سن لو….!
کہ
تمہارا مجھے سن لینا میرے لئے سببِ راحت ہے
تو
سنو….!

تم جانتے بھی ہو..؟
جانتے ہو تم جب جب دردیلی کھال میں کرب کی وریدوں میں دوڑتے تیزاب کے حامل وجود کو بوند بھر مسرت نصیب ہوئی ہے…. تب تب کیا انہونیاں بے آب و گیان خشک سزمینوں پر رونما ہوئیں ہیں ..؟

سنو….!

کسی طویل، تاریک، گھنگھور سرنگ میں جب چلتے چلتے کوئی روشنی کیلئے ترسنے لگے.. جب دماغ پر اس غلط فہمی کو سیطرہ اور بادشاہت مل جائے کہ آنکھیں دو بے رنگ گڑھے ہیں جو بے وجہ چہرے پر چپکادئیے گئے ہیں. گر ان کا کچھ مقصد ہوتا تو ان کو نظر آتا. جب اندھیریوں کا راج ہو. اور دیکھنا نعمت کبری دکھنے لگے.
جب یوں ہو… اور ایسے میں اچانک سرنگ کا دھانہ آجائے اور تیز روشنی آپ کی آنکھوں کو چندھیادے… تب عقل اور حماقت گلے ملتے ہیں.. تب جو کچھ انسان کرتا ہے. کسی قیاس میں نہیں آتا.
یوں لگ رہا تھا. دن بھر آپ سے دوری کے بعد آپ کی آواز تیز روشنی کی وہ پہلی کرن تھی.. جس نے اندر تک مجھے روشن کرلیا…..
میرے دل کی زمینوں پر اذیت کی کاشت کرنے والا شیطان اس معدوم نسل سے تعلق رکھتا ہے جو خون پیتا ہے. اور سورج کی روشنی سے اس کا بدن بھڑ بھڑ جلنے لگتا ہے.
سنو تم سورج تھے.
سنو تم سورج ہو.
تیرے لبوں سے نکلے لفظوں کی دھوپ میں وہ اذیت کی کاشت کرنے والا شیطان جل کر، بھسم ہوکر مر گیا.

وہ کچھ ساعتوں کی رات کی بات، میری ذات کے باغات (جو سوکھ چکے تھے) پر مبشرات کی برسات تھی. رات کی وہ بات، تمام تر تفکرات سے نجات کے لمحات کی بہتات بن کر میرے اطراف میں تخیلات کی نئی فصل بوگئی.

شاد مردانوی

دیالو قوم کے منگتے

اس کی آٹھ ماہ کی بچی ضیق النفس کے عارضے میں ابتلاء سے گزر رہی تھی. ہر گزرتا دن بیماری کو بڑھاوا دے رہا تھا. اور ہر نیا دن اس کی ایک اور امید کا قاتل بن کر طلوع ہوتا رہا. وہ رفتہ رفتہ سرکاری ہسپتال سے نجی ہسپتال اور نجی ہسپتال سے پرائیویٹ کنسلٹنٹ کی طرف جانے پر مجبور ہوچکا تھا.
میری اس سے ملاقات تب ہوئی. جب وہ معالجے کے اخراجات کیلئے اثاث البیت فروخت کرنے کی حد تک آچکا تھا. یومیہ اخراجات تو کسی قطار شمار  میں نہیں آتے وہ تنخواہ دار ملازم فی گھنٹہ اخراجات سے عاجز آچکا تھا. ایسے میں مجھے ایک صاحب دل اور صاحب ثروت کا دھیان آیا. اور بچی اور اس پر اٹھنے والے اخراجات کا تذکرہ کیا. زبان حال سے بچی کے والد کی دادرسی کا طلب گار ہوا.
انہوں نے ادویہ کی ہامی بھری. بچی کے والد کو جامژدہ سنایا. اور میں نے خوشی کے آنسو چمکتے دیکھے. لگے ہاتھوں ایک واقف کار فارمیسی والے سے ان کا تعارف کرایا. ضمانت دی کہ جتنی ادویات لے جانا چاہتے ہیں. ان سے جرح نہ کیا کریں. بس بل بناکر اپنے پاس ایک کاپی محفوظ کیا کریں.
ان سے اجازت لی اور اپنے بکھیڑوں میں الجھ گیا.
اگلے ہفتے زرا فراغت نصیب ہوئی تو بچی کی عیادت واسطے جاپہنچا. معلوم ہوا بفضلہ تعالی صحتیاب ہوکر گھر منتقل کرلی گئی. واپسی میں فارمیسی گیا. سوچا علیک سلیک بھی ہوجائے گی. اور لین دین کا بھی پوچھ لونگا.
خلاف معمول انہوں نے آؤ بھگت میں زیادہ گرم جوشی دکھائی. جو مجھے سوچنے پر مجبور کرتی تھی. دم واپسیں انہوں نے ہاتھ ملاتے کچھ رقم پکڑائی. میں نے کچھ سوچے سمجھے بغیر گنی تو وہ پانچ ہزار روپے تھے. سبب پوچھا تو معلوم ہوا. پانچ دن میں کل بائیس ہزار کی دوائیں استعمال ہوئیں . بچی کے والد کی ایماء پر بل لیکن پینتالیس ہزار کا بنایا گیا. جس پر فارمیسی والے صاحب کا مطالبہ ہوا کہ دس ہزار اوپر لونگا. اور اب فارمیسی کا مالک نہایت ایمانداری اور خلوص سے میرا حصہ مجھ تک پہنچارہا ہے.
یہ سب دیکھا اور سمجھ آگئی کہ میرے ملک میں اگر غریب پروری عروج پر تو منگتو مزاج بھی نرالے ڈھنگ رکھتے ہیں.

شاد مردانوی

سوال کا اژدہا

تم سے بات کرنا جبر کی کارستانیوں میں سے ایک کارستانی ہے.
تم میرے کیا ہو.؟
تم میرے کیا تھے.؟
تم میرے کیا ہوگے.؟
میں کیوں جانوں……..؟
میں لذت پرست ہوں. اور لمحہ موجود کی لذت یہ ہے کہ میں تم سے بات کررہا ہوں. تم یوں سمجھ لو تم میرے لئے سکون کا ایک زمینی ذریعہ ہو. مجھے لطف کے سمندروں میں غوطہ زن ہونے دو. اور مجھے انبساط کے بے کنار خلاوں میں محو پرواز رہنے دو. اور میرے، تیرے بیچ کا یہ رشتہ، یہ بات کا رشتہ رہنے دو.
مجھے اس لمحے کی بیخودی آج بھی اپنی پوروں میں نظر آرہی ہے. جب میری انگلیوں نے تمہارے نام کے ہجّے پہلی بار چَکھے تھے.
تم پوچھتے ہو. اور تمہارا پوچھنا کیسا بر محل تھا. جواز نے اپنے سارے پرت تمہارے لئے الٹادئے تھے. اور استحقاق تم پر دل و جان سے مہربان ہوچکا تھا…
تمہارا سوال میری لذت کے فاختہ پر کالا اژدہا بن کر پل پڑا تھا. اور فاختہ سوال کے تاک میں تھی. وہ جانتی تھی کہ وہ گھات میں تھی.
تم نے برچھیوں میں سے سب سے نوکیلی برچھی چنی تھی. اور تم سے بات کرنے کی وہ لذت جس کے سمندروں کا میں شناور تھا. اُس لذت کے وجود پر ململ کا کرتا تھا. تمہاری برچھی سے بچاؤ کیلئے زرہ بکتر نہ تھا.
اس کس مپرسی کے عالم میں تمہارے مورچے سے سوال کی برچھی آئی اور میرے لطف کے کلیجے کو چھیدتی ہوئی، پشت کو چاٹتی ہوئی، خون کے ذائقے سے آشنا ہوئی تھی.
تمہارا سوال تھا
“اے میرے شاد..!
رات کی یہ بات تمہاری ذات کے اطراف میں ایک بوچھاڑ کی برسات جیسی، خوشیوں کی بہتات جیسی اور بے فکری کی سوغات جیسی واردات کیوں برپا کرتی ہے..؟ ”
تم جاننا چاہتی تھی کہ فقط پوروں کی باتیں تمہارے جنون کا سامان کیوں بن رہی ہیں. تم اپنی لامحدود مجہولات میں یہ ایک مجہولہ کم کرنا چاہتی ہو کہ وہ کون سی انہونی ہے کہ شاد صرف بات کے رشتے سے جنون کے صحراؤں کا سالک کیوں بن بیٹھا.؟
اے میری” روحی جی “کی باقیات کو مٹانے والی انجان لڑکی.!
اور اے میرے لئے روحی جی کی اہمیت حاصل کرنے والی بدگمان لڑکی.!
تمہارے اس سوال کا جواب تمہارے شاد پر قرض رہا

شاد مردانوی

“ٹپیزہ” پہ پختو شاعرے کی یو نوے صنف.

پختو زمونگ پہ دی بر صغیر کی دہ چین دہ قامی جبہ سرہ پہ قدامت کی سر وخی. یو اندازہ دہ چی پختو ژبہ دہ ٤٠٠٠ سلور زرو کلونو تاریخ او قدامت لری. دنیا کی ڈیری جبی داسی دی. چی دہ روکیدو، او دہ نڑے دہ سرہ دہ خلاصیدو یرہ لری. خو پختو پہ تل جوندو ژبو کی یوہ ژبہ دہ. وجہ ددی ژبی پہ وینکو کی فطری ادبی میلان دے.
دہ کلو، غرونو او شاڑو اوسیدونکو تہ بہ ددی خبری ڈیرہ خہ مشاہدہ وی. چی پہ غر بیدیا کی غرسنے پختون زوان خپل پام سہ رنگہ پہ فی البدیہہ ٹپی سرہ بدلوی. ہم دغہ رنگہ دہ اولس خوخی لوبی لکہ کبڈی، مخہ او خکار بی دہٹنگ ٹکور نہ نیمچہ گنڑلے کیگی.
چی پہ کم قام کی دہ ادب دومرہ ڈوب احساس وی. ھغہ قام ہیس چری فکری او لسانی طور باندی د نڑے دہ مخؤونکو ھیوادونو نہ روستو نہ شی پاتی کیدے.
دہ پختو جبی دہ ٹولو نہ مشہور اور پہ زڑہ صنف ٹپہ دہ. یو روایت داسی شتے چی دا ٹپہ

سپوگمیہ کڑنگ وھہ راخیجہ
یار می دہ گلو لو کوی گوتی ریبینہ

ویلے کیگی چی دا دوہ زرہ ٢٠٠٠ کالہ زڑہ ٹپہ دہ.
دہ ٹپی پہ دی صنف کی چی پہ زرہاؤ کلونو پہ دی شان او پہ دی رنگ ئی مونگ اورو. زمونگ پہ عہد کی پی دہ پختو جبی مخہ وریز شاعر اسرار اتل صیب یو نوی تجربہ کڑی دہ. چی دہ “ٹپیزی” پہ نوم پیجندلے کیگی. اسرار اتل صیب تجربہ دا اوکڑہ چی دہ ٹپی دہ وڑومبے کڑے سرہ ئی دری کڑے نوری دہ وڑومبے کڑے پہ وزن، ردیف او قافیہ باندی اولگولی.
دا خو بہ را روان وخ وائیی چی دا تجربہ سومرہ کامیابہ دہ او سومرہ ناکامہ.. لیکن یوہ خامی چی زہ گنڑم کہ چری دا پہ ٹپیزہ کی نہ وے. نو دہ کامیابئے امکانات بہ ڈیر پڑقی دونکی ؤو… او ھغہ دا چی پہ ھغی دری کڑو کی دہ ربط او تسلسل فقدان دے.
دہ ٹپیزی یو دوہ نمونی دہ سترگو وڑاندی کئے.

دا چی کڑاؤ پہ سری غرمی کڑی
گرمئے کی زان زری زری کڑی
مالہ دہ یری زڑہ اری کڑی
چی لو کوی گوتی بہ پری کڑی
پلار تہ دی وایہ چی لوگری واچوینہ
………
بی دہ اشنا سہ جوند دا نہ دے
تیارہ، تیارہ، تیارہ، تیارہ دے
زما جانان ماتہ ہر سہ دے
بادشاہی تخت می پکار نہ دے
جانان دی لو کڑی زہ بہ وگی ٹولہ ومہ

شاد مردانوی

حدیث ناقصات عقل ودين اور عورت

عورت حدیث “ناقصات العقل والدین” کے آئینے میں.

متفق علیہ حدیث مبارک ہے. جس کے الفاظ امام مسلم نے کچھ یوں نقل فرمائے ہیں. 
مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ.
آقائے دو جہاں علیہ الصلاہ والسلام فرماتے ہیں.
اے عورتو…! مین نے دین اور عقل کے اعتبار سے ناقص دوسری کوئی مخلوق نہیں دیکھی جو ایسی سہولت سے کسی ہوشیار مرد کی خردمندی کو ملیامیٹ کردے.
ہر وہ مرد جو اس حدیث مبارک کو سمجھے بغیر سنے گا اس کے دل میں فطری طور پر عورت کے لئے تحقیر کے جذبات آئیں گے. وہ عورت کو شعوری طور پر مرد ذات سے کمتر جانے گا. کبھی ایسا ہوگا کہ تکرار ہوگی اور جب مرد منطقی دلائل کا جواب نہیں دے پائے گا تو حدیث مذکور کا گرز اٹھاکر عورت کو دے مارے گا. اور عورت بے چاری اپنے ایمان کی خیر مناتے ہوئے حق پر ہوتے ہوئے بھی اپنی ہار ماننے میں عافیت جانے گی.
گرچہ اس کے من میں بہ حیثیت ایک انسان کے سو سو سوالات کے ناگ سر اٹھائیں گے کہ میری عقل ایسی بھی کم نہیں کہ نبی کریم علیہ السلام اس کی کمی کی گواہی دے گئے.
میری نمازیں کیا ہوئیں.؟
وہ روزے کیا ہوئے..؟
وہ اوراد ووظائف، وہ تسبیحات، وہ تلاوتیں جب مرد کسبِ معاش میں تھا، اور میں ان عبادات میں دن گزارتی. مرد صرف پنج وقتہ نمازی رہ کر دین میں کامل ہوگیا اور میرا ہر فارغ لمحہ کسی نہ کسی عبادت میں بسر ہوکر بھی میں دین میں ناقص رہ گئی….؟
یہ کیسا دین ہے..؟ یہ کہاں کا انصاف ہے.؟
اس طرح کے سو سوالات پھن اٹھاکر عورت کے دماغ کو ڈستے رہتے ہیں. اعداء اسلام جب اسلام پر الزام لگاتے ہیں کہ اسلام نے عورتوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے. وہ اس حدیث مبارک کو بھی سامنے رکھ کر بات کرتے ہیں.
کیا واقعی اس حدیث کا یہی مطلب ہے کہ عورت کم عقل ہوتی ہے.؟
کیا یہی مطلب ہے کہ وہ دین میں میں مرد سے کمتر ہوتی ہے.؟
عورت حدیث “ناقصات عقل والدين” کے آئینے میں
دوسرا حصہ

جواب دینے سے قبل اس بات کا سمجھنا مناسب ہوگا کہ عقل کسے کہتے ہیں؟
اگر متکلمین اور فلاسفہ کے ابحاث جو انہوں نے عقل کی “تعیین” میں کئے ہیں. ذکر کئے جائیں. تو یہ مختصر تحریر اپنے مقصد سے ہٹ جائے گی. عقل کی تعریف، عقل کا مقام(دماغ یا دل)، عقل کی حقیقت اور عقل کی اقسام لمبی اور “بیزار کن” ابحاث ہیں.
ان ابحاث سے صرفِ قلم کرتے ہوئے عقل کی جامع، متفق اور سہل تعریف پر آتے ہیں. عقل عربی کا لفظ ہے جو امساک یعنی روکنے کو کہتے ہیں. عَقَلَ الرجلَ عن عَمَلِہ کسی کو کام سے روک لینا. و عقلَ البَعِیرَ اونٹ کی ٹانگیں باندھنا.
اصطلاح میں سب سے سہل تعریف سید شریف جرجانی نے ذکر کی ہے العَقلُ نُورٌ فی القلبِ یَعْرِفُ الحَقَّ وَالبَاطِلَ. یعنی دل میں اک ایسا ملکہ جس کے ذریعے درست اور غلط کے درمیان امتیاز کیا جاسکے اس ملکہ کو عقل کہتے ہیں. گویا کہ عقل آپ کو غلط چیز کے اختیار کرنے سے روکتی ہے. اسی مناسبت کی وجہ اس ملکہ پر عقل کا اطلاق ہوتا ہے.
اب اگر آپ غور کریں تو درست کو درست اور غلط کو غلط کہنے سے روکنے کیلئے دو چیزیں ہیں پہلی انسانی حرص ہے جسے عربی میں “ھوی النفس” جیسے جامع لفظ سے ذکر کیا گیا ہے. ھوی میں لالچ، انانیت، کبر، عجب، ظلم غرض ہر وہ منفی جذبہ داخل ہوتا ہے جو آپ کو حق کو حق کہنے سے روکتا ہے.
دوسری چیز جو حق کو حق کہنے سے روکنی ہے. وہ عاطفہ ہے. عاطفہ کے ذیل میں نرم خوئی، محبت، رقیق القلبی، جیسی مثبت صفات داخل ہوتیں ہیں. جو ظالم کو ظالم اس وجہ سے نہیں کہنے دیتیں کہ ظالم اپنا بھائی، بیٹا یا والد ہے.
اس تفصیل کے بعد جب ہم نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ عورت فطری طور پر نرم خو ہے. اس میں رقت قلبی زیادہ ہے. وہ کریہ منظر نہیں دیکھ پاتی. وہ کسی کا بھی جگر گوشہ ہو. اس کو تھپڑ پڑتا دیکھ اپنے دل پر گھونسا محسوس کرتی ہے. جب کہ اس کے مقابلے میں مرد فطری طور پر جی اور جگرے کا مضبوط ہوتا ہے. وہ جہاں تربیت میں ضرورت محسوس کرتا ہے بچے پر ہاتھ بھی اٹھاتا ہے. اس سے بات چیت بھی بند کرتا ہے. پردیس کاٹ سکتا ہے. بچوں سے دور رہ سکتا ہے. یہ سب ماں نہیں کرسکتی. ماں کا دل بہت نرم ہوتا ہے. باپ کا دل ماں کی طرح نرم نہیں ہوتا. وہ یہ سب برداشت کرسکتا ہے.
جب اسلام عورت کو ناقص العقل کہتا ہے تو اس معنی میں کہتا ہے کہ نرم دلی کے جذبات کی وجہ سے وہ حق اور باطل میں فرق نہیں کرپائے گی. اس کا اپنا بیٹا بلکہ بسا اوقات پرایا بیٹا بھی جب ظلم کرے گا. تو وہ مامتا کے ہاتھوں مجبور ہوکر ظلم کو ظلم نہیں کہے گی.
یہ جگرا صرف باپ کا ہوتا ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ کہے
واللذی نفسی بیدہ لو کانت فاطمۃ بنت محمد لقطعت یدھا.
کہ اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں باوجود اس کا باپ ہوکر اس کا ہاتھ کاٹتا.
اگر اسلام عورت کو ناقص العقل کہتا ہے تو یہ اس کی مامتا کی تعریف ہے. اس کی رحمدلی اور رقت قلبی کی تعریف ہے.
اس کے  ساتھ عورت کے ساتھ ایک اور عارض لاحق ہوتا ہے. عورت کی فطری ساخت ایسی رکھی گئی ہے کہ وہ گھر کو بخوبی سنبھال سکتی ہے. سیاسۃ البیت یعنی گھریلو سیاست اور سیاسۃ الملہ یعنی ایک پوری قوم کی دیکھ بھال یکساں بنیادوں پر استوار ہوتی ہے. جدید سنگل فیملی ماحول کے پروردہ نسل کیلئے یہ بات سمجھنا زرا مشکل ہے لیکن ابھی پچھلی صدی تک جب گھر اور خاندان کا مطلب یہ ہوتا کہ ایک ہی ڈیوڑھی کے پار تین تین نسلیں اکٹھے بسر کررہیں ہیں. کنبہ بسا اوقات دو سو نفوس پر مشتمل ہوتا. ان سب میں اکٹھ برقرار رکھنا، آپسی چپقلش میں ایسا کردار ادا کرنا کہ دونوں فریقین کی کدورت بھی نہ رہے اور آئندہ کیلئے یگانگت بھی برقرار رہے. بغیر کسی معاشیاتی علوم کے پورے گھرانے کا بجٹ بنانا یہ سب نانی اماں کی ذمہ داری ہوا کرتی تھی. آج بھی اس کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے جہاں جائنٹ فیملی سسٹم ہے. ہم دیکھتے ہیں کہ والد کا سایہ اٹھ جائے. تب بھی گھرانہ آپس میں مربوط رہتا ہے. لیکن والدہ کا سایہ اٹھ جائے تو ہار کے دانے خود بخود بکھرنے لگتے ہیں. ان سب کو ایک خاتون کی حکمت عملی جوڑے رکھتی ہے.
جبکہ گھر سے باہر کے تمام معاملات مرد کے ذمے ہوتے ہیں. معاش، معاملات، تجارت، اراضی کا لین دین، کورٹ کچہری کے معاملات سب کے سب مرد دیکھتا ہے. اب ظاہر ہے جیسا کہ مرد گھر کی اندرونی سیاست کی سوجھ بوجھ نہیں رکھتا. اسی طرح خاتون سیاست ملیہ اور معاشرے کی سوجھ بوجھ اود روئیے اپنی دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے.
لیکن اس کے باوجود اسلام نے عورت کو گواہی کا حق دیا ہے. اس سے چھینا نہیں ہے.
بس یہ شرط لگالی کہ چونکہ خاتون کو ان معاملات میں دو وجہ سے غلطی کا امکان ہے. پہلی یہ کہ وہ ظاہری ظلم کو دیکھ فطری نرم خوئی کی بناء پر غلط گواہی دینے کا امکان رکھتی ہے. دوسری یہ کہ وہ ان معاملات میں مرد کی طرح سوجھ بوجھ نہیں رکھتی. بس اسلام نے یہ شرط لگائی کہ ایک دوسری عورت اس کے ساتھ گواہی دینے والی ہو. وجہ بھی ساتھ ہی قرآن میں بیان کردی گئی کہ فتذکر احداھما الاخری.یعنی بھول چوک کی صورت میں دوسری خاتون یاد دلائے.
جبکہ مرد کے ساتھ تو زیادتی ہوگئی ہے. امتیازی سلوک تو اسلام نے مرد کے ساتھ کیا ہے. عورت کو باوجود باہر کے معاملات میں سوجھ بوجھ نہ ہونے کے پھر بھی گواہی کا حق دیا گیا ہے. لیکن اس کے برخلاف مرد کو خواتین کے کچھ مخصوص معاملات میں سرے سے گواہ بننے کا حق ہی حاصل ہی نہیں ہے. اگرچہ مردوں کا دعوی ہے کہ وہ ان معاملات کو بخوبی سمجھتے ہیں. پھر بھی وہ گواہی نہیں دے سکتا. وہاں صرف اور صرف خاتون کی گواہی معتبر ہے.
اب انصاف کیجئے. زیادتی مرد کے ساتھ ہوئی ہے یا عورت کے ساتھ.؟
عورت حدیث ناقصات عقل ودين کے آئینے میں
تیسرا اور آخری حصہ

کیا عورت واقعی دین میں ناقص ہے. اگر ہے تو اس کا کیا مطلب..؟
اس کا مختصر جواب تو یہی ہے کہ عورت سے عمل کا تقاضا مرد جتنا نہیں لیکن اجر کا وعدہ مرد جتنا ہے. یعنی اس کا عمل کم ہے جس کو عربی میں نقصان سے بیان کیا گیا ہے. لیکن اجر مرد جتنا ہی ہے.
عمل کی کمی کے نظائر خواتین کے مخصوص ایام میں نماز کی رخصت ہے. وہ نماز جومرد کو کسی صورت میں معاف نہیں ہے. چاہے وہ زخمی ہو اور زخموں سے خون رِس رہا ہو. لیکن ایک نماز کی چھوٹ نہیں ہے. لیکن خواتین کے لئے مستقل حکم ہے کہ مخصوص  ایام میں وہ نماز نہ پڑھیں.اب عمل کی کمی تو ہے لیکن اجر میں کوئی کمی نہیں ہے. اس لئے کہ یہ حکم خود باری تعالٰی کا ہے. اجر میں وہ مرد جیسی ہے اس کی دلیل یہ ہے.
للرجال نصيب مما كسبوا ، وللنساء نصيب مما اكتسبن
یعنی مرد کو جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا گیا ان کے کرنے کا اجر ہے. اور خواتین کو جن کاموں کے کرنے کا کہا گیا ہے. ان کے کرنے کا اجرہے.
یعنی ایک خاتون کے لئے کامل دین ہی یہی ہے کہ وہ کچھ دنوں میں نماز نہ پڑھے. جب کہ مرد کا کامل دین یہ ہے کہ وہ بہر صورت نماز پڑھتا رہے.
اگر غور کیا جائے تو خاتون کو ان ایام میں نماز نہ پڑھنے کا حکم دو وجوہ پر مشتمل ہے پہلی وجہ ناپاکی ہے. جبکہ دوسری مزاج کا ان ایام میں بوجھل اور چڑچڑاہٹ کا شکار ہونا. پھر اگر ایام تجاوز کرتے ہوئے مقررہ عادت سے بڑھ کر استحاضہ کی طرف جاتے ہیں تب اس کو باوجود ناپاکی کے نماز کا حکم ہے.
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جب ناپاکی یعنی استحاضہ کی حالت میں نماز کا حکم دیا جاسکتا ہے. تو یہی ناپاکی تو حیض کی حالت میں بھی تھی. تب کیوں حکم نہ دیا گیا.
یہاں ایک لطیف اور عورت ذات کی بہترین رعایت کا نکتہ ہے. اور وہ یہ کہ اسلام کو عورت کا اتنا احساس ہے کہ محض اس کے مزاج کے بوجھل ہونے کی وجہ سے،اور محض اس کی عارضی چڑچڑاہٹ کی وجہ سے اس کیلئے نماز جیسا اہم تر فریضہ معاف کردیا گیا. فقط ناپاکی پر نماز کی رخصت ہوتی تو یہی ناپاکی تو مابعد الحیض استحاضہ میں بھی ہے. ناپاکی کے ساتھ جب مزاج کی چڑچڑاہٹ اکٹھی ہوئی. تب اس کو نماز ہی معاف ہوگئی.
دوسری طرف مرد کو مرتے دم تک ہر صورت میں نماز کی پابندی لازم ہے. اور اجر و ثواب میں بھی مرد، عورت سے بڑھ کر نہیں.
تمت بالخیر

شاد مردانوی

ادب اور دیواریں

ادب انسانی جمالیات، انفعالیات ، مشاہدات، مدرکات اور محسوسات کا وہ لطیف پیرایہ اظہار ہے. جس میں مکان و زمان کے تمام رنگ متشکل ہوجاتے ہیں. اور آئندہ عہد کے لئے محفوظ ہوجاتے ہیں.
ادیب جو اپنے خارج میں دیکھتا ہے. جو اس کے گردوپیش بکھرا ہوا ہے.ان تمام ذائقوں کو محسوس کرتا ہے.
وہ حقارت کو محسوس کرتا ہے اور صرف محسوس نہیں کرتا بلکہ اپنی باطنی دنیا میں حقارت کو ایک مجسم پیکر میں ڈھالتا ہے. اور پھر نفرت کے تمام اظہارئیے اور بیانئے اس پیکر کے گرد لپیٹ لیتا ہے.
ادیب کسی بہن کا اپنے بھائی کے لئے محبت کا جذبہ دیکھتا ہے اور اپنے من کی گُپھا میں اسے ایک نور کے دیوتا کی حسی شکل میں ڈھال کے اس کے چرنوں میں عقیدت کے ہمہ رنگ پھول مہیا کرتا ہے.
ادیب کے احساس میں شدت ہوتی ہے. وہ ایک عام انسان کے دیکھنے سے زیادہ دیکھتا ہے. وہ سننے سے زیادہ سنتا ہے. وہ چھونے سے زیادہ چھوتا ہے. دراصل اشیاء ہوں، روئیے ہوں، تخیل ہو، حرکت و جمود ہو کسی بھی امر کو ایک ادیب، غیر ادیب کی نسبت زیادہ گہرائی سے جانچتا ہے. زیادہ گیرائی سے پرکھتا ہے. وہ لمحے میں سال جیتا ہے اور قطرے میں سمندر پنہاں دیکھتا ہے.
ادب کسی بھی قوم کے ثقافتی ورثے کیلئے فصیل کا کام دیتا ہے. کسی معاشرے سے اس کی سوچ چھیننی ہے. اس کی تہذیب چھیننی ہے. اس کو غلام بنانا ہے. زیرِ نگیں بنانا ہے. اس قوم سے اس کا ادب چھین لو. اس کی کتابیں اور اس کا تہذیبی ورثہ چھین لو. وہ قوم اقدار سے عاری افراد کا مجموعہ بن جائے گی.
ادب معاشرے کے خیر و شر کو دو آنکھوں سے دیکھتا ہے. اور ادیب اس کو تمام حسی شدتوں سے محسوس کرتا ہے. ادب کو اس سے غرض نہیں کہ وہ کیا دیکھ رہا ہے. وہ ہر شے دیکھتا ہے. اور اس کو بیان کرتا ہے. اور ایسا بیان کرتا ہے کہ مشہود کا حسن و قبح مُصَوَّر ہوجاتا ہے. مجسم ہوجاتا ہے.

ادب آوازیں سنتا ہے، جھرنے کی جھنکار سنتا ہے، خشک زمینوں کا تڑخنا سنتا ہے.،ورقِ گل سے گرتے قطرے کی ٹپ ٹپ سنتا ہے. اور ان بے معنی آوازوں کو ایک ترتیب دیتا ہے، ایک لے بخشتا ہے، ایک سُر سے نوازتا ہے اور یوں موسیقی وجود میں آتی ہے.
ادب چیونٹیوں کی قطار دیکھتا ہے ان کی حرکت کا ایک توازن دیکھتا ہے. ادب دیکھتا ہے کہ ہوا چلتی ہے تو پتے بھی ایک خاص ترتیب سے لہکتے ہیں. ادب حرکات اور سکنات کو ایک ردھم سے یکے بعد دیگرے ہوتا دیکھ کر زندگی کو وجود پذیر ہوتا دیکھتا ہے. وہ دل کی دھڑکن سے لے کر زلزلے تک کی ہر حرکت میں سکون کے مناسب اور معتدل وقفات دیکھ کر حرکات اور سکنات کی ایک مخصوص ترکیب تخلیق کرتا ہے. ہم جسے رقص کہتے ہیں.
ادب دیکھتا ہے کہ کائنات کو تخلیق کرنے والا عظیم مصور ہے. وہ بادل کی ٹکڑیوں کو دیکھتا ہے کہ تصویریں بناتی ہیں. وہ مناظر اور ان مناظر کے دماغ پر اثرات دیکھتا ہی نہیں ہر احساس کو ہاتھوں سے چھوکر محسوس بھی کرتا ہے. وہ جو بھی دیکھتا ہے اس کو کہیں زیادہ شدت سے لوحِ سنگ پر منتقل کرتا ہے تو مجسمہ سازی کہلاتی ہے. لوح قرطاس پر منتقل کرتا ہے. تو مصوری کہلاتی ہے.
یہی ادب محسوس کرتا ہے کہ جو میں کررہا ہوں وہ صرف ان کے لئے ہے جو حساس دل رکھتے ہیں. جو شعور رکھتے ہیں. جو اتنا فہم رکھتے ہیں کہ ان اظہاریوں کو سمجھ سکتے ہیں. ادب سمجھتا ہے میں اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوا. مجھے اپنی تخلیقات اس سطح پر لانی ہوگی کہ ایک عام آدمی تک میرا پیغام پہنچ سکے. ایک عام آدمی اپنے معاشرے کا وہ رخ جان سکے جو میں نے دیکھا. اور جو میں نے محسوس کیا. وہ چاہتا ہے کہ ایک عام آدمی تک وہ سیاہ چہرہ اس کے سماج کا پہنچے جس نے کئی روپ سجا رکھے ہیں. وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ وہ خوش نما حقائق جو میں نے دیکھے ہیں انہیں اور خوش نما کرکے عام فرد کے شعور تک پہنچاؤں.
ادب جانتا ہے کہ موسیقی، مصوری، سنگتراشی اور رقص کا فہم ایک خاص سطح کا متقاضی ہوتا ہے. تب ادب اپنے پیغام کو ہر خاص و عام تک پہنچانے کے لئے ابلاغ کی ایک ایسی جہت تراشتا ہے. جسے ہر شخص سمجھ سکے. وہ عام آدمی کی سطح پر آکر اسی لفظ ومعاني کے مرکب کو ذریعہ ابلاغ بناتا ہے جس میں عام آدمی خود کلام کرتا ہے. ادب کی اس جہت کو ہم شاعری کا نام دیتے ہیں.
اس تمہید کے بعد آئیے جائزہ لیتے ہیں اس سوال کا کہ کیا ادب کو پابند کیا جاسکتا ہے؟
کیا ادب کی حدود متعین کی جاسکتی ہے؟
کیا ہم ادب سے یہ امید رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ ادب صرف وہی دیکھے جو ہم اسے دکھانا چاہتے ہیں؟
ادب وہی سوچے جو ہم سوچتے ہیں.؟؟؟

یہ سوال تب اٹھتے ہیں. جب ہم اس بات سے ناآشنا ہوتے ہیں کہ ادب دراصل کسی معاشرے کا سب سے سچا آئینہ ہے. ادب وہی دکھائے گا جو وہ دیکھتا ہے. ادب وہی سوچے گا جو اس کے ارد گرد سماج اسے سوچنے کی دعوت دیتا ہے.
جب معاشرہ اپنا فرض پورا نہیں کرتا. جب دیوار کے اُس پار طیش میں آیا بچہ ہزاروں کے کھلونے توڑتا ہے اور دیوار کے اِس پار ایک بارہ سال کی بچی مٹی کے کھلونے بناکر چوک پر بیچنے جاتی ہے. جب اسی بچی کو اشاروں کنایوں میں سمجھایا جاتا ہے…..

“تم نسوانی وجود رکھتی ہو. یہ جو تمہیں سینے میں درد ہورہا ہے. یہاں پہلے پُھنسیاں نکلے گی. پھر گلٹیاں بنے گی اور کچھ عرصہ بعد بڑی ہوگی. چھاتیاں بنے گی. اور مرد کے لئے کھیلنے کا ذریعہ بنے گی””

تب وہ بچی جو کھلونے بناتی تھی. وہ سوچتی ہے کہ کھلونے ضروری ہوتے ہیں. نہ ہوتے تو میرے بنائے گئے کھلونے کیوں خریدے جاتے؟
وہ سوچتی ہے مرد جیسا جیسا بڑا ہوتا جاتا ہے. وہ کھلونے بدلتا جاتا ہے. کل کو یہ مجھے بھی کھلونا بنائے گا. تو میں آج ہی کھلونا بن کر کیوں نا اپنی قیمت وصول کروں؟
یہی معاشرہ اس بچی کو بیسوا بناتا ہے. اور یہی فرشتے پھر اس بچی کو اپنے سماج میں رہنے کا حق نہیں دیتے.
پھر قحبہ خانے بنتے ہیں
چکلے وجود میں آتے ہیں
عزتوں کے مول ہوتے ہیں
گھر اجڑتے ہیں
کہانیاں بنتی ہیں
تب………… ادب تخلیق ہوتا ہے

جب ادب دیکھتا ہے کہ ایک چودہ سال کا بچہ بڑے صاحب کی کوٹھی میں کام کرتا ہے. اور بیگم صاحبہ اس بچے کو باہر کے کاموں سے زیادہ اندر کے کاموں پر لگاتی ہے. بیگم صاحبہ اسے بتاتی ہے،سمجھاتی ہے کہ دیکھو تم مرد ہو. اور میں عورت ہوں. آؤ تمہیں بتاؤں کہ زندگی کسے کہتے ہیں.
تب منٹو پیدا ہوتا ہے. تب عصمت چغتائی جنم لیتی  ہے. تب لحاف لکھے جاتے ہیں اور ٹھنڈا گوشت پڑھا جاتا ہے. ایسے میں ادب تمہارے خود ساختہ معیارات اور پیمانے دیکھ کر چیخ پڑتا ہے. وہ سماج کے اس بدبودار پہلو کو سب کے سامنے لاتا ہے. وہ چاہتا کہ یہ تعفن انگیز روئیے، یہ منافقتیں سب پر عیاں ہو
تب خدائے سخن میر بھی کہتا ہے.

باہم ہوا کریں ہیں دن رات نیچے اوپر
یہ نرم شانے لونڈے ہیں مخملِ دو خوابا

-میر تقی میر

شیخ بے نفس کو نزلہ نہیں ہے ناک کی راہ
یہ ہے جریان منی دھات چلی جاتی ہے

-میر تقی میر

اور جب ادب یہ سب بیان کررہا ہوتا ہے. تو معاشرہ چیخ پڑتا ہے. سماج کہتا ہے یہ فرشتوں کے معاشرے میں بیان نہیں ہوسکتا.
کون سے فرشتے؟
وہی فرشتے جنہوں نے بچی کو بیسوا بنا ڈالا؟
وہی فرشتے جنہوں نے بچے کو مرد بنا ڈالا؟
پھر پابندیاں لگتی ہیں.
پھر دیواریں کھڑی ہوتی ہیں.
پھر کہا جاتا ہے یہ ادب نہیں فحاشی ہے.
ہاں یہ فحاشی ہے. تسلیم یہ عریانی ہے. لیکن یہ ادب کی تخلیق تو نہیں ہے نا؟ ادب نے تو فقط عکس دکھایا ہے. جو اس آئینے کے سامنے ہوگا. ادب اسی کو اپنے پانچوں پیرایوں (مجسمہ سازی، مصوری، موسیقی، رقص، شاعری) میں بیان کرے گا.

اختتامیہ

ادب کو بدلنا ہے تو خود بدلو. ادب کوئی الہامی کتاب نہیں ہے. اس کے سوتے تمہارے معاشرے سے ہی پھوٹتے ہیں. ادب پر باوجود اس تہمت کہ یہ ” مَالِ هَذَا الْكِتَابِ لا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً إِلاَّ أَحْصَاهَا” اسی ادب کو مقتدایانِ مذہب وملت نے بھی اپنے مکتوبات اور ملفوظات کا حصہ بنایا ہے. اور سرکار عالی مرتبت علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی نا صرف تحریص و ترغیب دی ہے بلکہ بسا اوقات یہ بھی ہوا کہ دربار نبوی میں مشاعرے کا سماں باندھا گیا ہے.
اور ستم ظریفی دیکھئے. کہ آج کے مسلمان مذہبی معاشرہ کے غالی طبقے کا ایک گروہ ادب کو ہمیشہ بادہ ناب جانتا آیا ہے. اور ادب کی ہمہ اقسام کو خالص اسلامی فکر کیلئے سم قاتل سمجھتا آیا ہے. اسی فکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ

اے فقیہانِ وطن تم کو اجازت ہے کہ تم
ذوقِ مے نوشی بڑھے جس سے وہ برتن توڑدو
پھوڑ دو ان مست آنکھوں کے سرور انگیز جام
ان حسینوں کی صراحی دار گردن توڑ دو
دلاور فگار
ختم شد
وماعلینا إلا البلاغ

شاد مردانوی Posted from WordPress for Android

غیر اہل لسان کی ادبی استعداد

رؤوف ساحر صاحب نے سوال اٹھایا ہے کہ
کیا اہل زبان کے علاوہ کوئی بھی شخص ادبی استعداد کا حامل نہیں ہوسکتا.؟
اس پر میرا کمنٹ

سوال خالص علمی استعداد کے حاملین کاملینِ فن کی خدمت میں رکھا گیا ہے. مزید یہ کہ سائل نے اساتذہ سے رائے طلب کی ہے. اس لئے کچھ بھی عرض کرنا جسارت شمار ہوگا. یہ سمجھ کر اپنی رائے رکھتا ہوں کہ ایک طالب علم کی معروضات اساتذہ کے سامنے آئے تو کم از کم مجھے استفادہ کا بے بہا موقع مل سکے گا.
اہلِ زبان کے علاوہ کوئی شخص کسی زبان میں نثر ونظم کی استعداد کا متحمل نہیں ہوسکتا؟
میرا خیال ہے یہ کلیہ اپنی اصل میں تجرد اور تجرید کی حد تک درست ہے. مراد یہ کہ اگر ہم اردو سمیت عالمی ادب میں غیر اہل لسان کی تخلیقات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے فقط یہ کلیہ جانچتے ہیں تو اس کی درستی قرینِ قیاس دکھتی ہے. دراصل اہل لسان شخص اسی زبان میں سوچتا ہے. زبان اس کے لئے خون کا درجہ رکھتی ہے. ہم جانتے ہیں زبان کا ہمارے تصورات اور تخیلات پر گہرا اثر ہوتا ہے. ایک اندوہی صورت حال میں ایک انگریز جس طرح سوچتا ہے ایک اردو دان اس سے بالکل ہٹ کر سوچ رکھتا ہوگا. سوچ کے پنپنے میں غیر شعوری طفلی عہد سے لے کر ہمارے ارد گرد پھیلے ہوئے روئیے اہم کردار تشکیل دیتے ہیں. اس تناظر میں دیکھا جائے تو اہل لسان شخص ویسے سوچتا ہے جو اس زبان کی اقدار ہوتی ہے جو اس معاشرے کی تخلیقی اپچ ہوتی ہے. بر خلاف غیر اہل لسان کے…. ہم اکثر اس کا مشاہدہ کرتے ہیں کسی نئی زبان سیکھنے والے کو دیکھتے ہیں کہ بسا اوقات وہ اپنی مادری زبان کا ترجمہ کرجاتا ہے اور اہل لسان کے لئے تفنن ِ طبع کا سماں پیدا کرجاتا ہے. اس تناظر میں یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ ادبی استعداد اہل لسان کا ہی ورثہ ہے. مولوی عبدالحق صاحب نے بھی کہیں اس نکتے کو تفصیلی بیان کیا ہے. کسی بھی زبان میں کچھ تخلیق کرنے کیلئے اس زبان سے گہرا تعلق درکار ہوتا ہے. پشت ہا پشت سے وہ زبان آپ کی “جینز” کا حصہ ہونا ضروری ہے. بصورت دیگر کسی “اجنبی” زبان میں تخلیق کے لئے کم از کم یہ تو ضروری قرار دیا جاتا ہے کہ وہ زبان آپ کی سرشت کا حصہ بن چکی ہو. آپ کم از کم اس بات کے تو اہل ہوں کہ آپ اپنا مافی الضمیر اس اجنبی زبان میں زیادہ خوبی سے ادا کرسکتے ہوں بہ نسبت اپنی مادری زبان کے. اہل لسان کی قید کچھ اس لئے بھی ضروری ہے کہ زبان شخصیت میں گھل مل جاتی ہے. ماہرین ِ لسانیات کا ماننا ہے کہ اگر کوئی بچہ پیدا ہوتے ہی والدین سے دور کردیا جائے تب بھی گیارہ سال کی عمر تک انسان میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ ایک ہفتے میں اپنی مادری زبان سیکھ سکتا ہے. اب ظاہر ہے اس حد تک رچاؤ کسی بھی زبان میں تخلیق کے لئے امرِ لازم ہے.
شاد مردانوی

شاد مردانوی Posted from WordPress for Android

ناگمانی کا ڈنک

جی اچٹ سا گیا. ہر منظر سے. ہر چہرے سے……. نہ زبان اور لفظ کا تعلق سمجھنے کا دھیان ہے اور نہ خیال اور دماغ کے ربط کو برقرار رکھنے کا دماغ…..
ملفوظ سے محظوظ ہونا چاہا تو اپنی نظر میں مبغوض مانا گیا.
منقوش قرطاس کے آس پاس بھی التباس نے ہراس کے دام بچھارکھے ہیں جو حواس کو معنی کی مٹھاس سے ہر دم نراس رکھتے ہیں. اداسی اور بیزار کن اباسی بلاشبہ ناسپاسی کا نتیجہ ہے لیکن احساسی شعور کی حد تک ناسپاس بھی تو نہیں ہوں.
رنگینی اپنی صد رنگی اور ضوفشانی کی ہر پرت اور لہر چھین کر بدلے میں کیا چھوڑ گئی؟
بے رنگی اور بے چینی کی اک ایسی فضا چھوڑ گئی جہاں مسرت کے سورج کے سات رنگوں میں سے صرف سیاہ رنگ ہی پہنچ پاتا ہے..
کھار اور تُرشی سمندر کی سرشت تھی لیکن میرے دریاؤں نے بھی ملاحت کا مزہ چکھ لیا.
میری زمیں صدیوں سے سیم زدہ ہے اور اس پر اندیشوں کی جھاڑیاں بھل بھل کرتے پانیوں میں لہلہاتی ہے. میں حیرتی ہوں کہ غم کے موسموں کے معجزے تھور میں بھی وسوسوں کی کھیتیاں اگاسکتے ہیں.
میری ذات ایک ایسی اکائی بن گئی جس کی  ترائی (مرطوب زمینیں) کیف کی سنکائی کو ترس گئیں. اور جس کے خشک علاقے مرطوب ہوا کو ترس گئے.
میں ہر نوخاستہ (تازہ کھلا ہوا)  برس (سال) کے گلِ نرجس سے رس کشیدتا اور جس لیتا رہا. بس اب کے بار میں بے بس رہا میری دسترس میں اب نا ہی جرس ہے نا بانگ جرس.. نا ہی باغچہ اور نا ہی غنچہ…..
مہک کی ہمک جاتی رہی.
رنگ کی امنگ نہ رہی
دھنک کی کسک فنا ہوئی
سرور کا وفور بھی نفور کا سبب بن رہا ہے
ایک رائیگانی اور ایک بے کرانی ہے.
شاد کامی کی فضا کو ناکامی اور بے مرادی کے دبیز بادلوں نے گھیرا ہے..

شاد مردانوی